Posts

Loss

 ہندؤں کیساتھ بہت برا ہوا  میں نے پاکستان میں ان شاندار حویلیوں کو دیکھ کے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے آج سے 100 سال قبل ہندو قوم کا رہن سہن نہایت شاہانہ تھا ۔ تقسیم ہند کا سب سے زیادہ فائدہ ہم مسلمانوں کو ہوا  ۔ ہندؤں کی عالی شان جائیدادیں ہمارے ہاتھ لگ گئیں  اور ہندو بیچارے خالی ہاتھ رہے۔ مسلمان اس وقت غرباً تھے ۔ جہلاء تھے ۔ گنتی کے لوگ تعلیم یافتہ تھے ۔ اگر کسی کو اعتراض ہے تو اپنے آباؤ اجداد میں سے بتائے کون کتنا پڑھا لکھا اور جس منصب پہ فائز تھا ؟؟؟ ہندو پڑھے لکھے نوکریوں والے کاروباری لوگ تھے  آج پاکستان میں ہمارے ٹور گائیڈ کیا دکھاتے ہیں !!! مندر , چرچ ، گوردوارے ہندؤں کی پرانی حویلیاں ۔ تو ثابت ہوا وہ ذوق شوق والے لوگ تھے مسلمان تو اس وقت نالیاں صفائی پہ معمور تھے معذرت کیساتھ ، ایسے تو اس موصلے مصلی نہیں کہا جاتا تھا ۔ برصغیر میں مغلوں کی بادشاہت کے بعد سرکار بہادر انگریز دور میں مسلمان سب سے  نچلے درجے کے لوگ تھے ۔ جب ہم نظر دوڑائیں تو ہمیں مسلمانوں کا شاندار ورثہ ڈھونڈھنے سے نہیں ملتا ۔ ماسوائے مزارات کے ۔ یہ بھی ہم نے ہندؤں کی نقل کی کیونکہ ہمیں غیب پہ...

Lost Star

Image
  All Sites Honey bin Tariq Edit Site Edit Post Howdy,  Honey Bin Tariq Skip to content Honey bin Tariq Facebook X Instagram Lost star By Honey Bin Tariq محمد ابراہیم خان: عشقِ حق کا مسافر اور ملتان کا گمشدہ ادبی ستارہ تحریر: ( ہنی بن طارق ) ملتان کی زرخیز مٹی نے ہمیشہ ایسے گوہرِ نایاب پیدا کیے ہیں جنہوں نے علم و ادب کی دنیا میں خاموشی سے گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔ انھی میں سے ایک درخشاں نام ( میرے پردادا ابو ) میاں محمد ابراہیم خان (1876–1963)  کا ہے، ( دور جہالت میں انکا سابقہ نام ) میراں بخش ہوا کرتا تھا ، میاں صاحب کا تخلص عشق حق تھا ۔قیام پاکستان سے قبل اپ تاج پورہ رہتے تھے جو آج لاہور کا حصہ ہے ۔اپ ایک راسخ العقیدہ مسلمان ثابت ہوئے یہاں تک کے جب ملتان منتقل ہوئے لوگوں نے حق گوئی کی بناء پہ آپکا کنویں سے پانی بھرنا بند کردیا آپ نے اپنے بچوں کی مدد سے اپنی حویلی محلہ غریب آباد چوک شہیداں میں کنواں بنایا ۔ پھر مسجد میں داخلہ بین کردیا ۔ آپ نے اپنی حویلی میں ایک باقاعدہ نماز کا کمرہ قائم کیا ۔ اپکی شخصیت فنی مہارت، سیاسی بصیرت اور عشقِ الہی کا ایک حسین امتزاج تھی۔ عرصہ...